شمارهٔ 125
Toggle stanza 1آی دریغا! که خردمند را
11
آی دریغا! که خردمند را
باشد فرزند و خردمند نی
22
ورچه ادب دارد و دانش پدر
حاصل میراث به فرزند نی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

