غزل شمارهٔ 545

Toggle stanza 1
شب نشد از تاب تب پیرهن آتشکده
1

شب نشد از تاب تب پیرهن آتشکده

پیرهنم شعله بود، انجمن آتشکده

2

صورت شیرین بکاشت، گلشنی از خار و خس

بهر خود آماده ساخت، کوهکن آتشکده

3

سینهٔ سوزان من، قبلهٔ گبران شده است

روح من آتش بود، جسم من آتشکده

4

سرد نگردد ز مرگ، ای دل آتش فروز

می برم از پیرهن در کفن آتشکده

5

رو سوی گلخن دلا، باغ و گلستان مشو

بس که بر افروختی در چمن آتشکده

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…