Toggle stanza 1
عاشق که طریق عشق آموزندش
1

عاشق که طریق عشق آموزندش

چون شعله ز پا تا به سر افروزندش

2

دل شمع صفت زنده بود در آتش

می میرد اگر دمی نمی سوزندش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…