شمارهٔ 87
Toggle stanza 1دم چند فروزی از سخن چینی خویش
11
دم چند فروزی از سخن چینی خویش
شرمنده نمیشوی ز رنگینی خویش
22
از من مزهای طلب که مغز از سخنم
رستهست چو نی شکر ز شیرینی خویش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

