Toggle stanza 1
بتا، مانند تو مهوش نباشد
1

بتا، مانند تو مهوش نباشد

وگر باشد چو تو سرکش نباشد

2

تویی طرفه سواری زانکه خورشید

بود بر ابر و بر ابرش نباشد

3

ز آهم تیر بستان، هم مرا کش

ترا گر تیر در ترکش نباشد

4

خوشم من، گر کشی زارم، اگر چه

کس در کشتن خود خوش نباشد

5

ندانم زیستن در خون خسرو

اگر آن چشم کافروش نباشد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…