Toggle stanza 1
از آن سنبل که گل سر بار دارد
1

از آن سنبل که گل سر بار دارد

گل طبع مرا پر خار دارد

2

ندارد گوییا قطعا سر من

سر زلفش که سر بسیار دارد

3

خط شیرین به زیر لب چو طوطی ست

که شکر پاره در منقار دارد

4

تو خورشیدی و جانم ذره آسا

هوای عشقت، ای دلدار، دارد

5

خطا باشد که زلفت مشک خوانم

که در هر چین دو صد تاتار دارد

6

نیم بلبل، چرا آن زاغ زلفت؟

نشیمن گاه در گلزار دارد

7

ز بار هجر خسرو برنگردد

که با روی وصالش کار دارد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…