Toggle stanza 1
یار ما را از آن خویش نشد
1

یار ما را از آن خویش نشد

بهر بیداد او به کیش نشد

2

دوش در پاش دیده می سودم

پاش آزرد و دیده ریش نشد

3

می دهم جان به عشق و می دانم

که کسی را از آن خویش نشد

4

از تو محروم می روم، چه کنم؟

عمر روزی و عهد بیش نشد

5

صنما، غمزه تو قصابی ست

که پشیمان ز خون میش نشد

6

تا به روی تو چشم کردم باز

هم به رویت که بیش بیش نشد

7

دل خسرو که از قرار برفت

بر قرار نخست پیش نشد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…