Toggle stanza 1
سرمه اندر چشم خودبین می کنی
1

سرمه اندر چشم خودبین می کنی

شانه اندر زلف پرچین می کنی

2

از ستم چندین که کردی کس نکرد

بس کن، از بهر که چندین می کنی؟

3

در غم لبهای من گویی بمیر

مرگ را بر بنده شیرین می کنی

4

بگذری از مهر و گویی کاین کنم

مهر می باید ترا کاین می کنی

5

تا بود ما و خیالت در شرف

چشم خسرو پر ز پروین می کنی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…