Toggle stanza 1
دیده را زان سبزه نو رسته نوروزی ببخش
1

دیده را زان سبزه نو رسته نوروزی ببخش

سینه را زان غمزه خون خواره دلدوزی ببخش

2

یک طرف بنما ز روی و یک گره بگشا ز زلف

مرده ام، از زندگانی یک شبانروزی ببخش

3

از پس سالی نمودی رو، مکش تا بنگرم

ور حقیقت خواهیم کشتن، یک امروزی ببخش

4

خامی آن کس که دید آن روی چون آتش نسوخت

یارب، افسرده دلان را در جگر سوزی ببخش

5

گر بد آموزی کند چشمت که بستان جان خلق

جان خسرو را علی الرغم بدآموزی ببخش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…