Toggle stanza 1
هر شبم کآهم به عالم دم زدی
1

هر شبم کآهم به عالم دم زدی

آتش اندر خرمن عالم زدی

2

سوخت جانم را غم و غم سوختی

ذره ای سوز من ار بر غم زدی

3

گر دلم را دست بودی بر فلک

دیده ای سقفش که چون برهم زدی

4

زین زبان دانی اگر جم بودمی

آسمانم بوسه بر خاتم زدی

5

در تن خاکی و سلطانی بدی

خاک پایم آسمان را کم زدی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…