غزل شمارهٔ 1947
Toggle stanza 1هر شبم کآهم به عالم دم زدی
11
هر شبم کآهم به عالم دم زدی
آتش اندر خرمن عالم زدی
22
سوخت جانم را غم و غم سوختی
ذره ای سوز من ار بر غم زدی
33
گر دلم را دست بودی بر فلک
دیده ای سقفش که چون برهم زدی
44
زین زبان دانی اگر جم بودمی
آسمانم بوسه بر خاتم زدی
55
در تن خاکی و سلطانی بدی
خاک پایم آسمان را کم زدی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

