رباعی شمارهٔ 63
Toggle stanza 1افسوس که نامهٔ جوانی طی شد
11
افسوس که نامهٔ جوانی طی شد
وآن تازهبهارِ زندگانی دی شد
22
آن مرغِ طَرَب که نام او بود شَباب
افسوس ندانم که کی آمد کی شد!
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

