غزل شمارهٔ 200

Toggle stanza 1
چون نسخه جمال تو خالیست از غلط
1

چون نسخه جمال تو خالیست از غلط

در وی چرا کشند لب و عارض تو خط

2

شک داشت در وجود دهانت دبیر حسن

بر لب پی شک از دو سه خال تو زد نقط

3

بغداد حسن را که تو در وی خلیفه ای

جاریست ز آب دیده ما بر کنار شط

4

منویس نامه پیش رقیب زبان دراز

خط چون توان نوشت قلم را نکرده قط

5

بنما میان دوباره که شکل تو کام ما

ندهد نتیجه گر نه مکرر شود وسط

6

آهنگ اوج عشق ز تردامنان مجوی

پرواز جره باز نیاید ز طبع بط

7

جامی خجل مباش گر از قحط قافیه

واقع شود به مطلع و مقطع تو را غلط

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…