Toggle stanza 1
ساقی بده ز خم صفا یک دو جام خاص
1

ساقی بده ز خم صفا یک دو جام خاص

تا یابم از کدورت خود یک دو دم خلاص

2

باشد به قدر لطف سخنور سخن لطیف

از گفته های عام مجو نکته های خاص

3

بر خصم جور پیشه مکن تیغ انتقام

در کیش عشق عفو ز قاتل به از قصاص

4

لطف عمیم دوست مرا خاص خویش خواند

ورنه مرا چه حد که زنم لاف اختصاص

5

طی کن به گام صبر و توکل طریق فقر

خواص ازین معامله شد قدوه خواص

6

بر گوش شیخ نعره مستان بود گران

لیت الزمان یفرغ فی اذنه الرصاص

7

جامی به قید حلقه آن زلف دل بنه

اذ لاخلاص منه بحال و لامناص

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…