Toggle stanza 1
مردم چشمم ز تو خالی بس است
1

مردم چشمم ز تو خالی بس است

مونس جان از تو خیالی بس است

2

ماه فروشد بنمای ابروان

نایب ماه از تو هلالی بس است

3

بهر رکاب تو ز خون جگر

بر رخ من بسته دوالی بس است

4

خوان چه حد من که نهم پیش تو

خدمت درویش خلالی بس است

5

مایل طوبی نشوم در بهشت

باغ مرا چون تو نهالی بس است

6

نیست سپه شرط جهانگیریت

از تو همین عرض جمالی بس است

7

ساغر زر پر چه کنی بهر من

بر کفم آلوده سفالی بس است

8

مزد غزلهای تو جامی تمام

نیم قبولی ز غزالی بس است

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…