شمارهٔ 67
Toggle stanza 1از تفرقه هجر تو در حلقه جمع
11
از تفرقه هجر تو در حلقه جمع
از بس که فشاندم اشک دوشینه چو شمع
22
در دیده نماند اشک و اکنون ز دلم
لو زاد علی العین دم فهوالدمع
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

