Toggle stanza 1
از تفرقه هجر تو در حلقه جمع
1

از تفرقه هجر تو در حلقه جمع

از بس که فشاندم اشک دوشینه چو شمع

2

در دیده نماند اشک و اکنون ز دلم

لو زاد علی العین دم فهوالدمع

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…