شمارهٔ 68
Toggle stanza 1خورشید تو زنگ خورده تیغ است دریغ
11
خورشید تو زنگ خورده تیغ است دریغ
پنهان شده در نیام میغ است دریغ
22
مرآت جمال آفرینش همه اوست
ناداده جلا چنین دریغ است دریغ
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

