شمارهٔ 25
Toggle stanza 1جامی نفاق پیشه کن و ترک صدق گیر
11
جامی نفاق پیشه کن و ترک صدق گیر
تا از خلاف خلق رهی وز نزاعشان
22
ور میل تو به مرکز صدق است و راستی
یکسو نشین ز دایره اجتماعشان
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

