Toggle stanza 1
جامی نفاق پیشه کن و ترک صدق گیر
1

جامی نفاق پیشه کن و ترک صدق گیر

تا از خلاف خلق رهی وز نزاعشان

2

ور میل تو به مرکز صدق است و راستی

یکسو نشین ز دایره اجتماعشان

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…