Toggle stanza 1
مرا عشق عزیزی خوار کرده ست
1

مرا عشق عزیزی خوار کرده ست

چه گویم عشق ازین بسیار کرده ست

2

نیاید از دل بی عشق کاری

مرا این نکته در دل کار کرده ست

3

به روز وصل بس آسان بود عشق

شب هجرش چنین دشوار کرده ست

4

نمی جنبد رقیبت زین سر کوی

ره عشاق را دیوار کرده ست

5

در آغوش خودت در خواب دیدم

فلک بخت مرا بیدار کرده ست

6

عیادت می کنی بیمار خود را

مرا این آرزو بیمار کرده ست

7

گدای توست جامی لیکن از تو

همین دریوزه دیدار کرده ست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…