غزل شمارهٔ 206

شاعر: جامی

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: ف

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
حشمت میفروش بین بر در او ز هر طرف
1

حشمت میفروش بین بر در او ز هر طرف

گرد مواید کرم اهل صفا کشیده صف

2

فیض کرامتش نهد دمبدم از سفال می

رند خداشناس را جام جهان نما به کف

3

پرورشت دهد فلک لیکن ازو تو برتری

بیش نهد بلی خرد قیمت گوهر از صدف

4

پرده دیده و دلم فرش بود به راه تو

گر قدمی بدین طرف رنجه کنی زهی شرف

5

قبله جان اهل دل مستی و بیخودی بود

وه که به زهد و توبه شد بیهده عمرها تلف

6

بانگ دفینه خوش بود خواجه زرشمار را

مفلس دردخواره را خوشتر ازان صدای دف

7

محنت بادیه مکش جامی و عزم کوفه کن

شو پی حج و عمره هم طایف مشهد نجف

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…