Toggle stanza 1
ای باد اگر سوی بدخشان گذری
1

ای باد اگر سوی بدخشان گذری

زنهار بر آن ماه درخشان گذری

2

گویی چه شود گر چو خور آسان آسان

یک بار دگر سوی خراسان گذری

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…