غزل شمارهٔ 268

Toggle stanza 1
دادی ز لطف خوی مرا با وصال خویش
1

دادی ز لطف خوی مرا با وصال خویش

وانگه نهفتی از نظر من جمال خویش

2

شکر خدا که می نتوانی که یک نفس

پیوند خاطرم ببری از خیال خویش

3

بیرون خرام مست و سرانداز هر طرف

سرهای سروران بنگر پایمال خویش

4

دیوانه توام دگران را به سنگ زن

در شور کن مرا پی دفع ملال خویش

5

گر باغبان ز لطف قدت یافتی نشان

بر جویبار دیده نشاندی نهال خویش

6

داری دریغ تیغ خود از عاشقان، مباش

بر تشنگان بخیل به آب زلال خویش

7

گفتی که چیست حال تو جامی خدای را

بنشین دمی که با تو کنم شرح حال خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…