Toggle stanza 1
در سینه ز غم زخم سنانی دارم
1

در سینه ز غم زخم سنانی دارم

چشم و دل خونابه فشانی دارم

2

دانی که مرا چون تو نمی باید هیچ

ای فارغ از آن که جسم و جانی دارم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…