Toggle stanza 1
از روز وجودم شفقی بیش نماند
1

از روز وجودم شفقی بیش نماند

وز گلشن جانم ورقی بیش نماند

2

از دفتر عمرم سبقی باقی نیست

دریاب، که از من رمقی بیش نماند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…