رباعی شمارهٔ 60
Toggle stanza 1از روز وجودم شفقی بیش نماند
11
از روز وجودم شفقی بیش نماند
وز گلشن جانم ورقی بیش نماند
22
از دفتر عمرم سبقی باقی نیست
دریاب، که از من رمقی بیش نماند
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

