رباعی شمارهٔ 61
Toggle stanza 1یک عالم از آب و گل بپرداختهاند
11
یک عالم از آب و گل بپرداختهاند
خود را به میان ما در انداختهاند
22
خود گویند راز و خود میشنوند
زین آب و گلی بهانه بر ساختهاند
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

