رباعی شمارهٔ 87

Toggle stanza 1
ای دل، قلم نقش معما می‌باش
1

ای دل، قلم نقش معما می‌باش

فراش سراپردهٔ سودا می‌باش

2

مانندهٔ پرگار به گرد سر خویش

می‌گرد و به طبع پای بر جا می‌باش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…