رباعی شمارهٔ 88

Toggle stanza 1
امشب چو جمال داده‌ای خب می‌باش
1

امشب چو جمال داده‌ای خب می‌باش

مه طلعت و گل رخ و شکرلب می‌باش

2

ای شب، چو من از تو روز خود یافته‌ام

تا صبح قیامت بدمد شب می‌باش

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…