رباعی شمارهٔ 88
Toggle stanza 1امشب چو جمال دادهای خب میباش
11
امشب چو جمال دادهای خب میباش
مه طلعت و گل رخ و شکرلب میباش
22
ای شب، چو من از تو روز خود یافتهام
تا صبح قیامت بدمد شب میباش
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

