بخش 7 - الحكایة و التمثیل

Toggle stanza 1
مرگ را مردی بجان مشتاق شد
1

مرگ را مردی بجان مشتاق شد

پیش خواجه بوعلی دقاق شد

2

گفت من از دست شیطان رجیم

می ندارم ذرهٔ از مرگ بیم

3

هر دمم جان گوئیا شیطان برد

مرگ نیکوتر بود گر جان برد

4

خواجه گفت ای چاره خواه نیکبخت

در سرایت از میان بر کن درخت

5

تا برو گنجشگ ننشیند دگر

بی درختت دیو کی بیند دگر

6

تا درونت آشیان دیو هست

دایمت از دیو سر کالیو هست

7

چون بسوزی آشیان دیو پاک

دیو را با تو چه کار ای دردناک

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…