شمارهٔ 58
Toggle stanza 1گفتم: ز فناء خود چنانم که مپرس
11
گفتم: ز فناء خود چنانم که مپرس
گفتا:به بقائیت رسانم که مپرس
22
یعنی چو به نیستی بدیدی خود را
چندان هستی بر تو فشانم که مپرس
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

