شمارهٔ 54
Toggle stanza 1کو تن که ز پای در فتادست امروز
11
کو تن که ز پای در فتادست امروز
کو دل که ز دیده خون گشادست امروز
22
در هر هوسی که بود دستی بزدیم
زان دست زدن، به دست، بادست امروز
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

