شمارهٔ 55
Toggle stanza 1از عمر گذشته عبرتی بیش نماند
11
از عمر گذشته عبرتی بیش نماند
وز مانده نیز حیرتی بیش نماند
22
عمری که ازو دمی به جان میارزید
چون باد گذشت و حسرتی بیش نماند
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

