شمارهٔ 1
Toggle stanza 1آنجا که نه جان رسید ونه تن آنجا
11
آنجا که نه جان رسید ونه تن آنجا
نه مرد رسد هرگز ونه زن آنجا
22
گر هر دو جهان زیر و زبر گردانم
تا تو نرسانی نرسم من آنجا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

