شمارهٔ 2
Toggle stanza 1می نرهانی مرا ز من، من چکنم
11
می نرهانی مرا ز من، من چکنم
سیر آمدهام ز جان و تن، من چکنم
22
من میخواهم که راه یابم سوی تو
تو ره ندهی به خویشتن من چکنم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

