Toggle stanza 1
دل خون شد و سررشتهٔ این راز نیافت
1

دل خون شد و سررشتهٔ این راز نیافت

جز غصه ز انجام وز آغاز نیافت

2

مرغ دل من ز آشیان دور افتاد

ای بس که طپید و آشیان باز نیافت

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…