Toggle stanza 1
نه مرهم خون خوارهٔ خود خواهی کرد
1

نه مرهم خون خوارهٔ خود خواهی کرد

نه ماتم آوارهٔ خود خواهی کرد

2

برخیز که بیچارهٔ کار تو شدم

گر چارهٔ بیچارهٔ خود خواهی کرد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…