شمارهٔ 26
Toggle stanza 1نه مرهم خون خوارهٔ خود خواهی کرد
11
نه مرهم خون خوارهٔ خود خواهی کرد
نه ماتم آوارهٔ خود خواهی کرد
22
برخیز که بیچارهٔ کار تو شدم
گر چارهٔ بیچارهٔ خود خواهی کرد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

