شمارهٔ 6
Toggle stanza 1شمع آمد و گفت: تا تنم زنده بود
11
شمع آمد و گفت: تا تنم زنده بود
جان بر سرِ من آتشِ سوزنده بود
22
شاید که مرا دیدهٔ گرینده بود
تا ازچه ز سرْ بریدنم خنده بود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

