شمارهٔ 5
Toggle stanza 1شمع آمد و گفت: این چه عذاب است مرا
11
شمع آمد و گفت: این چه عذاب است مرا
کز آتش و از چشم پرآب است مرا
22
سررشتهٔ من به دست آتش دادند
جان در غم و دل در تب و تاب است مرا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

