Toggle stanza 1
شمع آمد و گفت: این چه عذاب است مرا
1

شمع آمد و گفت: این چه عذاب است مرا

کز آتش و از چشم پرآب است مرا

2

سررشتهٔ من به دست آتش دادند

جان در غم و دل در تب و تاب است مرا

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…