Toggle stanza 1
بی ره رفتن، رموز می‌اندیشی
1

بی ره رفتن، رموز می‌اندیشی

برفی‌ست که در تموز می‌اندیشی

2

مردان جهان هزار عالم رفتند

تو بر دو قدم، هنوز می‌اندیشی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…