شمارهٔ 42
Toggle stanza 1هر دل که ز سِرِّ کار آگاهی یافت
11
هر دل که ز سِرِّ کار آگاهی یافت
در هر مویی ز ماه تا ماهی یافت
22
افسوس بود که بیخبر خاک شوی
آخر بشتاب اگر خبر خواهی یافت
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

