Toggle stanza 1
هر دل که ز سِرِّ کار آگاهی یافت
1

هر دل که ز سِرِّ کار آگاهی یافت

در هر مویی ز ماه تا ماهی یافت

2

افسوس بود که بی‌خبر خاک شوی

آخر بشتاب اگر خبر خواهی یافت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…