شمارهٔ 3
Toggle stanza 1گفتم:چه شود چو لطف ذاتی داری
11
گفتم:چه شود چو لطف ذاتی داری
کز قرب خودم غرق حیاتی داری
22
عزت، به زبان سلطنت، گفت:برو
تاکی ز تو خطی و براتی داری
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

