شمارهٔ 4
Toggle stanza 1گفتم:به غمم قیام کی بود ترا
11
گفتم:به غمم قیام کی بود ترا
گفتا: غم من تمام کی بود ترا
22
گفتم:همه نام وننگ شد در سر تو
گفت: این همه ننگ و نام کی بود ترا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

