شمارهٔ 23
Toggle stanza 1آنجا که روی به پا و سر نتوان رفت
11
آنجا که روی به پا و سر نتوان رفت
ور مرغ شوی به بال و پر نتوان رفت
22
از عقل برون آی اگر جان داری
کاین راه به عقل مختصر نتوان رفت
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

