شمارهٔ 22
Toggle stanza 1اول باری پشت به آفاق آور
11
اول باری پشت به آفاق آور
پس روی به خاک کوی عشاق آور
22
گر میخواهی که سود بسیار کنی
سرمایهٔ عقل و زیرکی طاق آور
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

