شمارهٔ 14
Toggle stanza 1آن دل که سراسیمهٔ عالم بودی
11
آن دل که سراسیمهٔ عالم بودی
یک ذرّه ندید از همه عالم سودی
22
هر سودایی که بود بسیار بپخت
حاصل نامد زان همه سودا دودی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

