شمارهٔ 13
Toggle stanza 1آن راز که دل به دیده میگوید باز
11
آن راز که دل به دیده میگوید باز
و آن چیز که گم نکرد میجوید باز
22
تا کرد دلم درد ترا مرهمِ صبر
دردی دگر ازتو روی میشوید باز
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

