شمارهٔ 26
Toggle stanza 1چون چشم به یارِ سیم تن میافتد
11
چون چشم به یارِ سیم تن میافتد
خون در دل و چشم ممتحن میافتد
22
چون چشم نگه نداشتم خون شد دل
هر خون که فتد ز چشم من میافتد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

