Toggle stanza 1
ای شمع! فروختی و لاف آوردی
1

ای شمع! فروختی و لاف آوردی

آتش به سر خود به گزاف آوردی

2

در سینه چو من نهفته در آتش عشق

از بهر چه سر را به طواف آوردی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…