شمارهٔ 74
Toggle stanza 1ای شمع! فروختی و لاف آوردی
11
ای شمع! فروختی و لاف آوردی
آتش به سر خود به گزاف آوردی
22
در سینه چو من نهفته در آتش عشق
از بهر چه سر را به طواف آوردی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

