Toggle stanza 1
پسر گفتش که این کاری بلندست
1

پسر گفتش که این کاری بلندست

که داند تا علو عشق چندست

2

بقدر مایه برتر می‌توان شد

بیک یک پایه بر سر می‌توان شد

3

چنان اَوجی که دارد عشق جان سوز

کس آنجا کی رسد آخر بیک روز

4

بدان شاخی که نرسد دستم آنجا

چرا دعوی بود پیوستم آنجا

5

خیال سحر نتوانم ز سر برد

مرا این کار می‌باید بسر برد

6

چو این می‌خواهدم دل چون کنم من

وگر خالی شود دل خون کنم من

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…