Toggle stanza 1
بزرگی گفت ازل همچون کمان است
1

بزرگی گفت ازل همچون کمان است

هزاران تیر هر دم زو روان است

2

ز دیگر سو ابد آماج‌گاهی

نه زین سو و نه زان امکانِ راهی

3

همی هر تیر کآید از کمان راست

عنایت بود تیر‌انداز را خواست

4

ولی هر تیر کآید کوژ از راه

همی بر تیر نفرین بارد آنگاه

5

ازین حالی عجب‌تر می‌ندانم

دلم خون گشت دیگر می‌ندانم

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…