رباعی شمارهٔ 76
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال
Do not bind your own steps with destiny's chain
Toggle stanza 1بپای خود مزن زنجیر تقدیر
11
بپای خود مزن زنجیر تقدیر
ته این گنبد گردان رهی هست
اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —
اس (گردش کرتے) آسمان سے نکلنے کا راستہ موجود ہے ۔
Do not bind your own steps with destiny's chain —
For beyond this whirling sky, freedom's path remains plain.
22
اگر باور نداری خیز و دریاب
که چون پا وا کنی جولانگهی هست
اگر اعتبار نہیں تو اٹھ (کوشش کر) اور اس راستے کو پا لے —
جب تو قدم اٹھائے گا تو (دیکھے گا) کہ میدان موجود ہے ۔
If in disbelief you linger, stand and earnestly explore —
Discover as you stride, an open field, an endless door.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

