رباعی شمارهٔ 76

اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال

Do not bind your own steps with destiny's chain

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: هیهست

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
بپای خود مزن زنجیر تقدیر
1
بپای خود مزن زنجیر تقدیر
ته این گنبد گردان رهی هست

اپنے پیروں میں تقدیر کی زنجیر مت ڈال —

اس (گردش کرتے) آسمان سے نکلنے کا راستہ موجود ہے ۔

Do not bind your own steps with destiny's chain —

For beyond this whirling sky, freedom's path remains plain.

2
اگر باور نداری خیز و دریاب
که چون پا وا کنی جولانگهی هست

اگر اعتبار نہیں تو اٹھ (کوشش کر) اور اس راستے کو پا لے —

جب تو قدم اٹھائے گا تو (دیکھے گا) کہ میدان موجود ہے ۔

If in disbelief you linger, stand and earnestly explore —

Discover as you stride, an open field, an endless door.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور